ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / امریکی فوج کی موصل میں فضائی حملے عام شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات

امریکی فوج کی موصل میں فضائی حملے عام شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات

Sun, 26 Mar 2017 19:44:38    S.O. News Service

نیویارک26مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اخبار نیو یارک ٹائمز نے امریکی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ 17 سے 23 مارچ کے درمیان ہونے والے اس حملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اتحادی فوج کے طیاروں نے عراقی شہر موصل کے مغربی علاقے میں اس مقام پر بمباری کی تھی جہاں پر عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔اس سے پہلے اقوامِ متحدہ نے موصل میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا کہ انھیں ان ہلاکتوں پر سخت صدمہ پہنچا ہے۔ اس سے قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ موصل میں امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔امریکی فوج موصل میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراقی فوج کی مددکر رہی ہے۔امریکی فوج کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس حملے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔دوسری جانب موصل میں دولتِ اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں عام شہریوں نے ممکنہ فضائی حملوں اور عراقی فوج سے شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز کی درخواست پر جنگی جہازوں نے کارروائی کی تاہم یہ نہیں بتایا کہ جنگی جہازکس ملک کے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحاد عام شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور شہری ہلاکتوں کے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور فضائی کارروائی کے بارے میں بتائے جانے والے حقائق کا تعین کیا جا رہاہے۔’کارروائی کے ابتدائی ڈیٹا کے جائزے کے مطابق 17 مارچ کو موصل کے مغرب میں اس جگہ فضائی کارروائی کی گئی جہاں پر عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔‘مغربی موصل میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں کی گئی ایک فضائی کارروائی کے بعد جمعے کے روز جدیدہ کے علاقے میں ایک عمارت سے 50 لاشیں نکالی گئیں۔موصل کے مغربی حصے کے باسیوں نے کہا ہے کہ حالیہ بمباری کے بعد سے بہت سے شہری اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔سنہ2014 میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر جہادیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم عراقی افواج کی جانب سے کئی ماہ جاری رہنے والی کارروائی کے بعد کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیاگیاہے۔عراقی فوج اس وقت موصل کے تمام مشرقی علاقوں پر قابض ہے۔ پانچ مارچ سے امریکہ کی مدد سے شروع ہونے والی حالیہ کارروائی سے شدت پسند مغرب کی جانب کئی اہم جگہوں کو خالی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان مقامات میں مقامی حکومت کا مرکزی دفتر اور موصل کا عجائب گھر بھی شامل ہیں۔
 


Share: